پیر سائیں عبدالستار چشتی | سوانح حیات، روحانی سفر اور تعلیمات

درِ ستار میں خوش آمدید

درِ ستار ایک اسلامی، روحانی اور تعلیمی ویب سائٹ ہے جس کا مقصد قرآنِ کریم اور سنتِ رسول ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات کو عام کرنا، اصلاحِ نفس، اخلاقی تربیت، تصوف و معرفت اور خدمتِ خلق کے جذبے کو فروغ دینا ہے۔

یہ پلیٹ فارم ہر اس فرد کے لیے ہے جو اپنی روحانی، اخلاقی اور دینی زندگی کو بہتر بنانا چاہتا ہے اور مستند اسلامی رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

پیر سائیں عبدالستار چشتی دامت برکاتہم

سوانح حیات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تعارف

پیر سائیں عبدالستار چشتی دامت برکاتہم ایک روحانی شخصیت، دینی و اخلاقی رہنمائی کے داعی، سماجی خدمت سے وابستہ فرد اور تعلیماتِ اولیاء کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ آپ کی تعلیمات کا مرکزی محور خود شناسی، خدا شناسی، اصلاحِ نفس، محبت، اخلاص، اتحادِ امت اور خدمتِ خلق ہے۔

آپ کا مقصد اولیائے کرام کی تعلیمات کو قرآن و سنت کی روشنی میں عام کرنا اور انسان کو اپنے باطن کی اصلاح، اچھے اخلاق اور اللہ تعالیٰ کی معرفت کی طرف متوجہ کرنا ہے۔


ابتدائی زندگی

مکمل نام: عبدالستار
معروف نام: سائیں ستار
والد محترم: محمد اقبال
تاریخ پیدائش: 20 دسمبر 1977ء
جائے پیدائش: چک 355 ج ب، گوجرہ
خاندانی پس منظر: راجپوت منج

آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے 355 ج ب میں حاصل کی، جبکہ دینی تعلیم فیصل آباد میں حاصل کی۔

دنیاوی تعلیم کے حوالے سے آپ نے بی اے کیا اور راضی یونانی طبیہ کالج، گوجرہ سے فاضلِ طب و جراحت کی تعلیم بھی حاصل کی۔


اساتذہ اور علمی استفادہ

آپ نے مختلف اہلِ علم و فضل سے علمی و تربیتی استفادہ حاصل کیا، جن میں:

  • سید عبدالصمد شاہ صاحب
  • سید لطیف حسن شاہ صاحب
  • الحاج الحافظ عدالت علی خان صاحب

شامل ہیں۔


روحانی سفر

سائیں عبدالستار چشتی دامت برکاتہم کا روحانی سفر 1996ء میں شروع ہوا۔

آپ کے مرشدِ کریم باوا سائیں اللہ دتہ المعروف سائیں صابر مستانہ سرکار ہیں۔ آپ کی بیعت 1998ء میں چک 25 ج ب، لدھڑ، سانگلہ ہل میں ہوئی۔

آپ کا تعلق سلسلۂ چشتیہ صابریہ سے ہے، جبکہ 2005ء میں آپ کو خلافت و اجازت عطا ہوئی۔

آپ کے روحانی سفر کی ایک بنیادی تعلیم “خود شناسی، خدا شناسی” ہے۔ آپ کے نزدیک انسان اپنے باطن کو پہچاننے اور اپنے نفس کی اصلاح کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی معرفت کی طرف بڑھ سکتا ہے۔


مرشدِ کریم کی تعلیم

مرشدِ کریم کی وہ نصیحت جو آپ کے دل کے قریب ہے:

“خود شناسی، خدا شناسی”

یہی تصور آپ کی روحانی رہنمائی اور تعلیمات میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔


تعلیمات اور دعوت

آپ کی دعوت و تبلیغ کا بنیادی مقصد تعلیماتِ اولیاء اللہ کا قرآن و سنت کی روشنی میں پرچار اور اتحادِ امت ہے۔

آپ کی تعلیمات میں بالخصوص درج ذیل موضوعات کو اہمیت حاصل ہے:

  • اصلاحِ نفس
  • تزکیۂ نفس
  • ذکرِ الٰہی
  • مراقبہ
  • عشقِ رسول ﷺ
  • حسنِ اخلاق
  • خدمتِ خلق
  • محبت اور اخلاص
  • اتحادِ امت

آپ کے نزدیک ایک مرید کے لیے بنیادی صفات میں اتباعِ شیخ کو اہم مقام حاصل ہے۔


تنظیمِ تعلیماتِ اولیاء فاؤنڈیشن

تنظیمِ تعلیماتِ اولیاء فاؤنڈیشن کا قیام 2007ء میں عمل میں آیا۔

سائیں عبدالستار چشتی دامت برکاتہم اس کے بانی و سرپرستِ اعلیٰ ہیں۔

فاؤنڈیشن کا بنیادی مقصد تعلیماتِ اولیاء کو قرآن و سنت کی روشنی میں عام کرنا، اصلاحی و روحانی شعور کو فروغ دینا اور معاشرے میں رفاہِ عامہ کے کاموں کے ذریعے خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔

فاؤنڈیشن کے تحت رفاہِ عامہ کے کام کیے گئے ہیں، جبکہ مستقبل کے منصوبوں میں پیرا انسٹیٹیوٹ کی زیرِ تعمیر عمارت بھی شامل ہے۔


سماجی اور عوامی خدمات

سائیں عبدالستار چشتی دامت برکاتہم کا تعلق اپنے علاقے کی سماجی اور عوامی خدمت سے بھی ہے۔

آپ گاؤں 355 ج ب کے نمبردار ہیں اور اہلِ علاقہ کی نمائندگی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔

آپ بین المذاہب امن کمیٹی پنجاب کے وائس چیئرمین بھی ہیں، جہاں بین المذاہب ہم آہنگی، امن اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے کردار ادا کرتے ہیں۔

آپ کا پیشہ زراعت اور ڈیری فارم سے بھی وابستہ ہے۔


دعوت و تبلیغ اور YouTube

سائیں عبدالستار چشتی دامت برکاتہم نے 2014ء میں YouTube کے ذریعے اپنی تعلیمات اور روحانی و اصلاحی پیغام کو وسیع پیمانے پر لوگوں تک پہنچانے کا سلسلہ شروع کیا۔

اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے دینی، روحانی اور اصلاحی موضوعات کو عام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ تعلیماتِ اولیاء اور روحانی رہنمائی زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔


ذاتی معمول اور پسندیدہ اذکار

آپ کی روزمرہ زندگی میں اہلِ علاقہ کی نمائندگی اور ان کی خدمت کو اہم مقام حاصل ہے۔

پسندیدہ ذکر: ذکرِ اللہ
پسندیدہ دعا: استغفار

آپ کے نزدیک روحانی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی یاد، عاجزی اور مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔


پسندیدہ قرآنی آیت

آپ کی پسندیدہ قرآنی آیات میں سورۃ الحشر کی آیت نمبر 19 شامل ہے۔

وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ [1]
ترجمہ:
“اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں خود اپنے آپ سے غافل کر دیا، یہی لوگ نافرمان (فاسق) ہیں۔”

یہ آیت انسان کو اللہ تعالیٰ کو بھول جانے کے انجام اور اپنی حقیقت سے غافل نہ ہونے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔


پسندیدہ حدیث

آپ کی پسندیدہ حدیث کا مفہوم اللہ تعالیٰ کے اخلاق و صفات کے مطابق حسنِ اخلاق اختیار کرنے سے متعلق ہے۔

آپ کی تعلیمات میں حسنِ اخلاق، محبت اور انسانوں کے ساتھ اچھے برتاؤ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔


پسندیدہ شاعر اور شعر

آپ کے پسندیدہ شاعر علامہ محمد اقبالؒ ہیں۔

آپ کو علامہ اقبال کا یہ شعر پسند ہے:

خودی میں ڈوب جا اے غافل! یہ سِرِّ زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا

یہ شعر خودی، بیداری اور انسان کے اندر موجود صلاحیتوں کو پہچاننے کی دعوت دیتا ہے۔


پسندیدہ صوفی بزرگ

آپ کے پسندیدہ صوفی بزرگ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ ہیں۔

سلسلۂ چشتیہ سے وابستگی کے باعث حضرت بابا فریدؒ کی محبت، عاجزی، خدمت اور روحانی تعلیمات آپ کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔


روحانی رہنمائی

نوجوانوں کے لیے پیغام

نوجوانوں کے لیے آپ کا بنیادی پیغام ہے:

“خود شناسی، خدا شناسی”

انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی ذات، اپنے کردار اور اپنے مقصدِ زندگی کو پہچانے اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔


اللہ تعالیٰ کا قرب کیسے حاصل کیا جائے؟

آپ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے قرب کی طرف بڑھنے کا ایک بنیادی راستہ خود شناسی اور خدا شناسی ہے۔

انسان اپنے نفس کی اصلاح، ذکرِ الٰہی، اچھے اخلاق، محبت اور خدمت کے ذریعے اپنے رب سے تعلق مضبوط کر سکتا ہے۔


روحانی ترقی کا معیار

آپ کے مطابق مرید کو اپنی روحانی ترقی کا جائزہ اپنے ظاہری دعووں سے نہیں بلکہ اپنے اخلاق اور معاملات سے لینا چاہیے۔

اگر انسان کے دل میں اللہ کے بندوں کے لیے نفرت اور کدورت کم ہو رہی ہو اور مخلوقِ خدا کے لیے محبت بڑھ رہی ہو تو یہ روحانی بہتری کی ایک اہم علامت ہے۔


ذکر، مراقبہ اور خدمت

ذکر اور مراقبہ اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم آپ خدمتِ خلق کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔

آپ کی تعلیمات میں روحانیت صرف عبادات اور اذکار تک محدود نہیں بلکہ مخلوقِ خدا کے ساتھ محبت، حسنِ سلوک اور خدمت کو بھی روحانی زندگی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔


روحانی زندگی کی چند بنیادی تعلیمات

محبت

آپ کے نزدیک اخلاص پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ محبت ہے۔

حسد سے بچنا

آپ حسد کو روحانی زندگی کی بڑی بیماریوں میں شمار کرتے ہیں اور انسان کو اپنے دل کو اس منفی کیفیت سے پاک کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔

صلح رحمی اور صلح جوئی

ہر سالک کے لیے صلح رحمی، صلح جوئی اور لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنا اہم ہے۔

گمان پروری سے اجتناب

آپ کے مطابق مریدوں کی عام غلطیوں میں سے ایک گمان پروری بھی ہے؛ اس لیے دوسروں کے بارے میں بلاوجہ بدگمانی سے بچنا چاہیے۔

مرشد و مرید کا تعلق

آپ کے نزدیک مرشد اور مرید کے تعلق کی بنیاد باہمی اخلاص پر قائم ہونی چاہیے۔


ایک اہم روحانی واقعہ

آپ اپنی زندگی کے یادگار روحانی واقعات میں اس واقعے کو اہم قرار دیتے ہیں جس میں آپ کے مطابق دعا کی برکت سے مرشد کی عطا ہوئی۔

آپ کے بیان کے مطابق رمضان شریف میں نوافل کے دوران غوثِ پاکؒ کے وسیلے سے کی گئی دعا کے بعد آپ کو اپنے مرشدِ کریم کی نسبت نصیب ہوئی۔

یہ واقعہ آپ کے روحانی سفر میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔


زندگی بدل دینے والی نصیحت

آپ کی زندگی پر سب سے گہرا اثر رکھنے والی نصیحت:

“خود شناسی، خدا شناسی”

یہ مختصر مگر جامع پیغام آپ کی فکر، روحانی سفر اور تعلیمات کا ایک نمایاں حصہ ہے۔


امتِ مسلمہ کے لیے پیغام

آپ کی عمومی تعلیمات کا خلاصہ محبت، اخلاص، اصلاحِ نفس، اتحادِ امت اور خدمتِ خلق میں نظر آتا ہے۔

آپ کا پیغام ہے کہ انسان ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرے جو اللہ تعالیٰ کے بندوں سے اللہ کی خاطر محبت کرتے ہوں اور جو ظاہری و باطنی ترقی، خوشحالی اور اچھے کردار کے حامل ہوں۔

“اپنے دور کے ان لوگوں کی سنگت اختیار کرو جو اللہ کے بندوں سے اللہ کے لیے محبت کرتے ہوں اور ظاہری و باطنی ترقی و خوشحالی کے حامل ہوں۔”

 

🌐 Website: https://daresattar.com

📧 Email: daresattar@gmail.com


اختتامیہ

پیر سائیں عبدالستار چشتی دامت برکاتہم کی زندگی اور تعلیمات میں خود شناسی، خدا شناسی، محبت، اخلاص، اصلاحِ نفس، حسنِ اخلاق اور خدمتِ خلق کو نمایاں مقام حاصل ہے۔

درِ ستار کا مقصد ان تعلیمات اور روحانی و اصلاحی پیغام کو ایک منظم ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے قارئین، مریدین، محبین اور عام لوگوں تک پہنچانا ہے۔

اللہ تعالیٰ سائیں جی کو صحت، عافیت، علم، اخلاص اور مزید خدمتِ دین و خلق کی توفیق عطا فرمائے، اور ان کی کوششوں کو خیر و برکت کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

واللہ اعلم بالصواب