Manqbat SAIN SATTAR

منقبت مرشد
میرا دل تھا اندھیروں میں، نہ منزل کا نشاں کوئی
مرے مرشد نے ہاتھ تھاما، تو کھل گیا جہاں کوئی

میں بھٹکا تھا کئی برسوں، نفس کے بیچ طوفانوں میں
مرے سائیں نے پھر بلایا، محبت کی اذاں کوئی

نظرِ مرشد کا صدقہ ہے، جو دل زندہ ہوا میرا
وگرنہ کھو چکا تھا میں، خود اپنی داستاں کوئی

سائیں ستار ہے نام جن کا، کرم جن کی پہچان ٹھہری
فقیروں کے لیے جیسے، رحمت کا آسماں کوئی

نہ دولت کی طلب مجھ کو، نہ دنیا کی تمنا ہے
مرے حصے میں آ جائے، مرے مرشد کی دعا کوئی

جو اک نظر سے دل بدل دے، وہی مرشدِ کامل ہے
جو غافل دل جگا ڈالے، کہاں ملتا یہاں کوئی

میں آیا ہوں پلٹ کر پھر، اسی چوکھٹ کے سائے میں
جہاں ملتا ہے زخموں کو، سکونِ جاں رواں کوئی

دعا ہے آخری سانسوں تلک قائم رہے نسبت
رہے سر پر مرے سائیں کی، محبت کا نشاں کوئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *