Manqbat SAIN SATTAR
منقبت مرشد میرا دل تھا اندھیروں میں، نہ منزل کا نشاں کوئی مرے مرشد نے ہاتھ تھاما، تو کھل گیا جہاں کوئی میں بھٹکا تھا کئی برسوں، نفس کے بیچ طوفانوں میں مرے سائیں نے پھر بلایا، محبت کی اذاں…
منقبت مرشد میرا دل تھا اندھیروں میں، نہ منزل کا نشاں کوئی مرے مرشد نے ہاتھ تھاما، تو کھل گیا جہاں کوئی میں بھٹکا تھا کئی برسوں، نفس کے بیچ طوفانوں میں مرے سائیں نے پھر بلایا، محبت کی اذاں…